دنیا میں پہلی بار ایک ٹیٹو آرٹسٹ نے جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے 300میل کے فاصلے
سے ایک لڑکی کے بازو پر ٹیٹو بنادیا۔ ڈیلی سٹار کے مطابق یہ ٹیٹو آرٹسٹ لندن کا رہائشی ہے جس نے لندن میں بیٹھے ہوئے نیدرلینڈز میں لڑکی کے بازو پر ٹیٹو بنایا۔ اس مظاہرے میں ایک روبوٹ، تھری ڈی پرٹنگ اور فائیو جی انٹرنیٹ کو بروئے کار لایا گیا۔اس حیران کن ٹیکنالوجیکل سٹنٹ کو ’ٹی موبائل نیدرلینڈز‘ کی معاونت حاصل تھی
ٹیٹو آرٹسٹ ویز تھامس نے ٹیکنالوجسٹ نوئیل ڈریو کے ساتھ مل کر 3ڈی پرٹنر کے ذریعے اپنی نوعیت کی واحد ’ٹوئٹونگ رِنگ‘ تیار کی۔ نوئیل ڈریو نے اس کا کئی چیزوں پر تجربہ کیا۔ سینکڑوں تجربات کے بعد بالآخر ایک لڑکی کے بازوپر ٹیٹو بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ یہ لڑکی نیدرلینڈز کی معروف ٹی وی سٹار ’سیجن فرانسین‘ تھی۔ ویزتھامس لندن میں بیٹھا اپنے ہاتھ کو جس طرح حرکت دے رہا تھا، ٹیکنالوجی کے ذریعے نیدرلینڈز میں روبوٹ اسی طرح سیجن فرانسین کے بازو پر ٹیٹو بناتا جارہا تھا

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں